بیورو رپورٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |  |  | | خدشہ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بڑھے گی |
دارالحکومت اسلام آباد میں واقع میریئٹ ہوٹل کے باہر زوردار بم دھماکے میں پچیس کے قریب ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ میریئٹ ہوٹل بری طرح تباہ ہو گیا ہے اور اس کے عقب میں واقع پاکستان ٹیلی وژن اور دوسری عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک عینی شاہد راجہ سیراج نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک بہت زور دار دھماکہ تھا جس کے بعد آگ نے ہوٹل کی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے ایک طرف ان کی 'رینٹ اے کار‘ کا دفتر تھا جس کے کئی ملازم بھی دھماکے کی وجہ سے زخمی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تین زخمیوں کو لے کر ہسپتال پہنچے ہیں۔ دھماکے کے بعد انہوں نے ہوٹل کے ارگرد کا ماحول بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت خیز منظر تھا۔ بلوچستان ہاؤس کے ایک ملازم فیض الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان ہاؤس سے باہر نکلے ہیں اور انہوں نے دیکھا کہ میریئٹ کے سامنے ایک ٹرک کو آگ لگی ہوئی ہے۔ میں واپس مڑا کہ کچھ ہونے والا ہے اور ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بڑے بڑے پتھر گرے اور ایک پتھر مجھے بھی لگا۔  |  | | دھماکے میں کئی غیر ملکی بھی زخمی ہوئے ہیں |
شہزاد ملک نے میریئٹ ہوٹل کے باہر سے بتایا کہ ایک ٹرک نے سکیورٹی کے بیریئر سے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرا دیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔ میریئٹ ہوٹل تقریباً سارا ہی آگ کی لپیٹ میں ہے اور کئی کمروں سے لوگ کھڑکیاں کھول کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے ایک اہلکار ایوب منہاس نے بتایا کہ انہوں نے ابھی افطاری کے بعد کام کرنا ہی شروع کیا تھا کہ اچانک دھماکہ ہو گیا۔ 'ہمیں لگا کہ یہ دھماکہ پی ٹی وی کے کمپاؤنڈ میں ہوا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم سب سکتے میں آ گئے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ میریئٹ ہوٹل میں ہوا ہے اور دھماکے کی شدت سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ 'جب ہم میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں بیس فٹ گہرا اور پچاس فٹ چوڑا گڑھا بنا ہوا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہوٹل میں آگ لگی ہوئی ہے اور زخمیوں کو وہاں سے نکالا جا رہا ہے۔ |